Thursday, November 27, 2014
Monday, November 17, 2014
بھولی بسری چند امید یں چند فسانے یاد آیے ،
تم یاد آیے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آیے
دل کا چمن شاداب تھا پھر بھی خاک سی اڑتی رہتی تھی ،
کیسے زمانے اے غمے جاناں ،تیری بہانے یاد آیے
[شاداب =in full bloom]
ٹھنڈی سرد ہوا کے جھونکے آگ لگا کر چھوڑ گئے ،
پھول کھلے شاخوں پہ نیۓ اور درد پرانے یاد آیۓ
[سرد =cold]
ہنسنے والوں سے ڈرتے تھے ،چھپ چھپ کر رو لیتے تھے ،
گہری گہری سوچ میں ڈوبے دو دیوانے یاد آیے
جناب رضی ترمزی
Sunday, November 2, 2014
کس لئے رقص دکھاتا ہوں مجھے کیا معلوم ،
میں تو بس وقف تماشہ ہوں مجھے کیا معلوم
(رقص ... dance ،وقف.....foundation)
کیسا ہنگامہ برابر کے مکاں میں ہے مقیم ،
میں تو خود شور میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم
(مقیم .......reside)
ایک خورشید سے منصوب مراسم ہیں میرے ،
دھوپ ہوں یا کوئی سایہ ہوں مجھے کیا معلوم
(خورشید .....sun، منصوب .........appointed,fixed)
آگ ہے یا کوئی گلزار تہے شاخ چراغ ،
خاک ہوں خاک میں رہتا ہوں مجھے کیا معلوم
(ته ......depth، شاخ .........branch)
کوئی رت ہو میری تقدیر ہے بہتے رہنا ،
وقت ہوں،اشک ہوں، دریا ہوں ،مجھے کیا معلوم
(رت .........season، اشک...........tears، دریا ..........river)
مجھکو اک آنکھ لئے پھرتی ہے گلیوں گلیوں ،
کون ہوں،کیا ہوں ،کہاں کا ہوں ،مجھے کیا معلوم
آنکھ سے کس کی سرے بزم میں اوجھل ہوں رضی ،
اور کسکو نظر آتا ہوں مجھے کیا معلوم
جناب رضی حیدر
(اوجھل .........invisible، سرے بزم .........amidst, in gathering،
Tuesday, October 28, 2014
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا ،
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا .
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار میرا ،
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا .
صبح دم چھوڑ گیا ،نکہت گل کی صورت ،
رات کو غںچاۓ دل میں سمٹ آنے والا
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے ،
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
تیرے ہوتے ہوۓ جلتی تھی سا ری دنیا ،
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں ،
کون آئے گا یہاں کون ہے انے والا
کیا خبر تھی جو میری جاں میں گھلا ہے اتنا ،
ہے وہی مجھ کو سرے دار بھی لانے والا
تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز ،
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
جناب احمد فراز
وہی انداز ہے ظالم کا زمانے والا .
اب اسے لوگ سمجھتے ہیں گرفتار میرا ،
سخت نادم ہے مجھے دام میں لانے والا .
صبح دم چھوڑ گیا ،نکہت گل کی صورت ،
رات کو غںچاۓ دل میں سمٹ آنے والا
کیا کہیں کتنے مراسم تھے ہمارے اس سے ،
وہ جو اک شخص ہے منہ پھیر کے جانے والا
تیرے ہوتے ہوۓ جلتی تھی سا ری دنیا ،
آج تنہا ہوں تو کوئی نہیں آنے والا
منتظر کس کا ہوں ٹوٹی ہوئی دہلیز پہ میں ،
کون آئے گا یہاں کون ہے انے والا
کیا خبر تھی جو میری جاں میں گھلا ہے اتنا ،
ہے وہی مجھ کو سرے دار بھی لانے والا
تم تکلّف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز ،
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
جناب احمد فراز
Friday, October 17, 2014
اب کے برسات کی رت اور بھی بھڑکیلی ہے ،
جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے
قبا ......long coat open from front
سونچتا ہوں کے اب انجام سفر کیاہوگا
لوگ بھی کانچ کے ہیں ،رہ بھی پتھریلی ہے
پتھریلی....sharp stony
شدّت کرب میں تو ہنسنا بھی کرب ہے میرا ،
ہاتھ ہی سخت ہیں ،زنجیر کہاں ڈھیلی ہے
گرد آنکھوں میں سہی ،داغ تو چہرے پہ نہیں
لفظ دھندلے ہیں مگر ،فکر تو چمکیلی ہے
گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہ ،
کسکو معلوم کے یہ قند بھی زہریلی ہے
پہلے رگ رگ سے میری خون نچوڑا اس نے ،
اب یہ کہتا ہے ،رنگت ہی تیری پیلی ہے
مجھ کو بے رنگ ہی نہ کردیں کہیں رنگ اتنے ،
سبز موسم ہے ،ہوا سرخ ،فضا نیلی ہے
میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھایے ،
کیا کروں ،مظفر ،ذہن میرا جبریلی ہے
جناب مظفر وارثی
جسم سے آگ نکلتی ہے قبا گیلی ہے
قبا ......long coat open from front
سونچتا ہوں کے اب انجام سفر کیاہوگا
لوگ بھی کانچ کے ہیں ،رہ بھی پتھریلی ہے
پتھریلی....sharp stony
شدّت کرب میں تو ہنسنا بھی کرب ہے میرا ،
ہاتھ ہی سخت ہیں ،زنجیر کہاں ڈھیلی ہے
گرد آنکھوں میں سہی ،داغ تو چہرے پہ نہیں
لفظ دھندلے ہیں مگر ،فکر تو چمکیلی ہے
گھول دیتا ہے سماعت میں وہ میٹھا لہجہ ،
کسکو معلوم کے یہ قند بھی زہریلی ہے
پہلے رگ رگ سے میری خون نچوڑا اس نے ،
اب یہ کہتا ہے ،رنگت ہی تیری پیلی ہے
مجھ کو بے رنگ ہی نہ کردیں کہیں رنگ اتنے ،
سبز موسم ہے ،ہوا سرخ ،فضا نیلی ہے
میری پرواز کسی کو نہیں بھاتی تو نہ بھایے ،
کیا کروں ،مظفر ،ذہن میرا جبریلی ہے
جناب مظفر وارثی
Subscribe to:
Posts (Atom)




.jpg)




.jpg)












